© 2026 drinamulhaq.com
ہمارے معاشرے میں خواتین اکثر اپنی صحت کے مسائل کو خاموشی سے برداشت کرتی رہتی ہیں۔ خاص طور پر وہ بیماریاں جو “شرم” یا “پردے” سے جوڑ دی جاتی ہیں، ان پر کھل کر بات کرنا آج بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ یہی خاموشی بعض اوقات ایک چھوٹی بیماری کو جان لیوا مرحلے تک پہنچا دیتی ہے
آج ایک درمیانی عمر کی خاتون کلینک آئیں۔ وہ کافی عرصے سے پاخانے کے ساتھ خون آنے، قبض، اور مقعد کے قریب درد کی شکایت کر رہی تھیں۔ گھر والوں اور محلے کی خواتین نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ “بواسیر” ہے، جس کا علاج دیسی ٹوٹکوں اور مقامی مرہم سے ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے مختلف گھریلو نسخے، حکیموں کی ادویات، اور لوکل مرہم استعمال کیے۔ وقتی آرام ضرور ملا، مگر اصل بیماری اندر ہی اندر بڑھتی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تکلیف میں اضافہ ہونے لگا۔ وزن کم ہونا شروع ہوا، کمزوری بڑھ گئی، اور خون آنا بھی زیادہ ہو گیا۔ جب انہیں اسپتال آنے کا مشورہ دیا گیا تو وہ سخت ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ ان کا کہنا تھا:
“یہ ٹیسٹ کروانا بہت شرمندگی کی بات ہے… لوگ کیا کہیں گے؟”
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین کو اپنی جسمانی بیماریوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی۔ خاص طور پر مقعد، آنتوں یا نسوانی مسائل کو “شرم” سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ انہیں بروقت تشخیص سے دور رکھتی ہے۔ کافی سمجھانے اور اعتماد دینے کے بعد وہ سگموئیڈوسکوپی (Sigmoidoscopy) کروانے پر آمادہ ہوئیں۔ یہ ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس میں بڑی آنت اور ریکٹم کے اندرونی حصے کو کیمرے کی مدد سے دیکھا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے دوران ایک بڑا ریکٹل ماس نظر آیا۔ مزید بایوپسی کروائی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک مہلک رسولی (Rectal Malignancy) تھی۔ یہ خبر ان کے لیے اور ان کے خاندان کے لیے انتہائی صدمے کا باعث تھی۔ اگر بیماری پہلے مرحلے میں تشخیص ہو جاتی تو علاج نسبتاً آسان اور کامیاب ہو سکتا تھا۔ مگر مسلسل تاخیر اور سماجی دباؤ نے بیماری کو خطرناک مرحلے تک پہنچا دیا۔
یہ کہانی صرف ایک مریضہ کی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک اجتماعی حقیقت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:
خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں۔ اگر علامات مسلسل موجود رہیں تو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بیماری چھپانے سے نہیں، بروقت تشخیص اور علاج سے ٹھیک ہوتی ہے۔
صحت پر خاموشی نہیں، آگاہی ضروری ہے۔
Dr. Inam ul Haq is a leading Gastroenterologist with over 15 years of experience in advanced endoscopy. He is passionate about patient education and preventive care.